انتہا پسند تنظیم نے احمد حمدان کو مرتد قرار دے کر العریش میں قتل کیا
قاہرہ،26اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)مصر میں داعش کے ہاتھوں اغوا ہونے والے پیٹرولنگ پولیس اہلکار کی دردناک ہلاکت کی تصاویر سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آنے کے بعد مقتول کے گھر صف ماتم بچھ گئی۔27سالہ احمد سلامہ حمدان کو تین روز قبل 'عاطف سادات' کے علاقے میں دوران ڈیوٹی اغوا کر کے نامعلوم مقام پر لیجایا گیا جس کے تین دن بعد العریش کے شمالی صحرائی علاقے میں گولیوں سے چھلنی اس کی نعش ملی۔جمعرات کے روز احمد سلامہ حمدان کی دردناک موت کی خبر کے تفصیل اس وقت سامنے آئی جب اسے نامعلوم قاتلوں نے سر اور سینے میں گولیاں مار کر ہلاک کیا اور پھر اس کی لاش 'المساعید' کے علاقے میں پھینک گئے جہاں سے العریش پولیس ریجن کے اہلکاروں نے اسے ہسپتال منتقل کیا۔
پولیس تحقیقات کے مطابق احمد سلامہ حمدان کو منگل کے روز انصار بیت المقدس نامی تنظیم کے کارکنوں نے قتل کیا۔ تنظیم نے نومبر 2014میں ریکارڈ شدہ آڈیو پیغام کے ذریعے داعش کے خلیفہ ابوبکر البغدادی کی بیعت کے بعد اپنا نام 'ولایہ سیناء ' رکھ لیا تھا۔ولایہ سیناء نے ٹویٹر پر’’ دولت اسلامیہ ہیش ٹیگ ‘‘پر حمدان کو گولیاں مار کر ہلاک کرنے کی تصاویر جاری کیں تھیں۔ٹویٹر پر جاری کردہ پانچ تصاویر اور مقتول کے محکمانہ کارڈ پر درج تفصیلات میں اسے العریش کی "صقل" کالونی کا رہائشی بتایا گیا ہے۔ دو تصاویر میں منہ پر ماسک چڑھائے ایک نامعلوم شخص پستول کے فائر کر کے زمین پر گرے حمدان پر گولیاں چلاتے دیکھا جا سکتا ہے۔